مضمون

وہ نبوت کی تکمیل میں آیا

حصہ 2 از 2

پادری Dr. John C. Lawrenz

پہلی بار 1993ء میں Dr. Martin Luther College میں ایک سمپوزیم میں پیش کیا گیا · حصہ 1 · حصہ 2

ہم ایمان رکھتے ہیں یسوعؔ مسیح پر جو اُس کا اکلوتا بیٹا اور ہمارا خُداوند ہے۔ نبوت کا خدا وہ ہستی ہے جو اپنی تعریف آپ کرتی ہے، یعنی “مَیں جو ہُوں سو مَیں ہُوں”۔ اِس حیثیت سے وہ “خُداوند [عبرانی: یہوہ] خُداوند خُدایِ رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دِھیما اور شفقت اور وفا میں غنی۔ ہزاروں پر فضل کرنے والا۔ گُناہ اور تقصِیر اور خطا کا بخشنے والا لیکن وہ مُجرم کو ہرگِز بری نہیں کرے گا” (خروج 34:6–7)۔ پرانا عہد نامہ اِس کی تصدیق کرتا ہے۔ اسرائیل میں معافی، زندگی اور نجات محض فضل سے ظاہر ہوئیں، اگرچہ ناکامی اور برگشتگی ہر طرف تھی۔ آبائی وارثوں کو اُن کی میراث غیر متوقع طور پر ملی۔ اضحاق ایسے والدین کے ہاں پیدا ہوا جو اولاد پیدا کرنے کی عمر سے گزر چکے تھے (عبرانیوں 11:11)۔ یعقوب جڑواں بھائیوں میں چھوٹا تھا (پیدائش 25:23)۔ یہوداہ چوتھا بیٹا تھا (پیدائش 29:35) اور آوارہ بھی (پیدائش 38)۔ یہوداہ کا وارث زنا بالمحارم کی اولاد تھا (پیدائش 38:30)۔ ایک کے بعد ایک تاریخی واقعے میں ہم soli deo gloria (صرف خدا کو جلال) کا اصول دیکھتے ہیں۔ خدا کا اسرائیل کو مصر سے رہائی دینا ایک ایسے منصوبے کے مطابق تھا جس پر صرف خدا ہی کو یقین تھا۔ اسرائیل بڑبڑایا، موسیٰ نے ہمت ہار دی، مگر خدا اپنے منصوبے پر قائم رہا (خروج 5)۔ اِسی طرح کنعان میں یشوع کی پہلی بڑی فتح، یعنی یریحو کی تسخیر، ایک ایسے جنگی منصوبے کے مطابق ہوئی جو روایتی فوجی حکمت کے خلاف تھا (یشوع 6)۔ اِس کے لیے عقل سے ماورا بھروسے کی ضرورت تھی۔ اسرائیل کو چھ دن تک روزانہ ایک بار اور ساتویں دن سات بار خاموشی سے شہر کے گرد چکر لگانے کے بعد للکار کر شہر کی دیواریں گرانی تھیں۔ اور یہ کارگر ثابت ہوا۔ یریحو پر اسرائیل کی فتح کا سہرا 100% خداوند کے سر تھا۔ دیگر “شکست کے جبڑوں سے چھینی گئی فتوحات”، مثلاً حزقیاہ بادشاہ کے دنوں میں سنحیرب کی شکست (2-سلاطین 19)، فضل اور عدالت کے اُن عالمگیر کاموں کی پیش بینی کرتی ہیں جو ہمارے خداوند یسوع مسیح کی پہلی آمد اور آمدِ ثانی کا پیش سایہ ہیں۔ صرف فضل سے نجات پولُس کے خطوط کا موضوع ہے، بالخصوص رومیوں اور گلتیوں کا۔

جب اسرائیل نے فضل کو ٹھکرایا تو عدالت اُس کا مقدر بنی۔ حرمہ میں اسرائیل کے لشکر کے بارے میں سوچیں۔ خداوند نے اپنی قوم کو چالیس برس بیابان میں بھٹکنے کی سزا دی تھی کیونکہ اُنہوں نے کنعان کو فتح کرنے کے لیے خداوند کی طرف سے لڑنے سے انکار کیا تھا۔ جب اُنہوں نے اپنا ارادہ بدلا تو اُنہیں بری طرح شکست ہوئی (گنتی 14:44–45)۔ ایلی کے بیٹوں کے ہاتھوں مقدس صندوق کے بطور تعویذ کفرآمیز استعمال کے بارے میں سوچیں (1-سموئیل 4)۔ اِس کا نتیجہ سیلا میں پہلے مقدس کی تباہی کی صورت میں نکلا (یرمیاہ 7:12–14)۔ سوچیں کہ یرمیاہ کے دنوں میں برگشتہ یہوداہ یروشلیم اور ہیکل کو کس طرح ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا (یرمیاہ 4:10؛ 8:11) اور کس طرح حزقی ایل نے رویا میں خدا کے جلال کو خدا کے گھر سے رخصت ہوتے دیکھا (9:3؛ 10:18؛ 11:23)۔

ہم ایمان رکھتے ہیں یسوعؔ مسیح پر… جو رُوح القدس کی قدرت سے مجسم ہوا۔ کنواری مریم سے پیدا ہوا۔ باغِ عدن ہی میں پیدائش نجات کے دروازے کے طور پر ظاہر ہوئی۔ وہاں خدا نے ایک عورت کی نسل کے ذریعے گناہ اور گناہ کے بانی کے ظلم کے خاتمے کا وعدہ کیا۔ پہلی انجیل، پیدائش 3:15، قابلِ ذکر ہے۔ خداوند نے اپنا پیغام ایسی زبان میں بیان کیا جو آدم اور حوا کی دنیا سے پوری طرح مطابقت رکھتی تھی۔ اگر خداوند بیت لحم، کلوری، یوسف کی قبر یا حتیٰ کہ یسوع جیسے الفاظ استعمال کرتا تو یہ الفاظ آدم اور حوا کے لیے محض آوازیں ہوتے۔ لیکن سانپ کا ڈسنا اور سانپ کا سر کچلنا ایسے تجربات تھے جن کا سامنا آدم کو گری ہوئی دنیا میں کرنا تھا۔ آدم اور حوا زہر کی مہلک، مگر ضروری نہیں کہ جان لیوا، طاقت کو دیکھیں گے۔ ساتھ ہی اُنہوں نے یہ بھی سیکھا کہ سر پر کچلنے والی ضرب کس طرح رینگتے ہوئے سانپ کو وہیں ختم کر دیتی ہے۔ یوں پیدائش 3:15 پرانے عہد نامے کی زیادہ تر نبوت سے مشابہ ہے۔ خدا نے ایسے الفاظ اور تصورات استعمال کیے جنہیں لوگ اپنے زمانے میں سمجھ سکتے تھے، یہ بخوبی جانتے ہوئے کہ ایمان کی آنکھیں اصل حقیقت کو اُس وقت دیکھ لیں گی جب وہ آخرکار آئے گی۔

نسلوں تک پیدائشیں خدا کے وعدے کا ٹھوس ثبوت تھیں۔ ابرہام کی نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی (پیدائش 12:3)۔ خدا نے داؤد سے کہا کہ اُس کی نسل میں سے ایک شخص خداوند کے لیے عبادت گاہ بنانے کی داؤد کی خواہش کی جگہ لے لے گا (2-سموئیل 7:11–16)۔ یسعیاہ کی وہ کونپل (11:1) جو یسی کے یہوداہ کے مردہ تنے سے نکلی، یسعیاہ کا عجیب بچہ تھی (9:6–7) اور کنواری کا وہ بیٹا جسے اُس نے دور سے دیکھا (7:14)۔ میکاہ نے کہا کہ یہ بچہ بیت لحم میں پیدا ہونے والا ایک شیرخوار ہوگا (5:2)۔ اپنی اہمیت کی وجہ سے پیدائش عورت کی سب سے بڑی برکت تھی۔ اِس کے برعکس بانجھ پن ایک صلیب تھا جسے اُٹھانا پڑتا تھا۔ پیدائش کے ساتھ یہ امید آتی تھی کہ موت کا تریاق قریب ہے۔ سارے پرانے عہد نامے میں جو سنہری دھاگا چلتا ہے وہ یہ ہے کہ خدا، جیسا کہ ازل سے اُس کا ارادہ تھا، انسانیت کو بچانے کے لیے ایک بیٹے کو رحم میں قرار دے گا۔ حوا نے اِس پر ایمان رکھا۔ یسعیاہ نے اِس کا وعدہ کیا۔ مریم نے اِس کا تجربہ کیا۔

حتیٰ کہ خیمۂ اجتماع اور اُس کی جانشین ہیکل نے بھی تجسم کا اعلان کیا۔ خدا ہر جگہ موجود ہے، جیسا کہ سلیمان نے اپنی تقدیس کی دعا میں اعلان کیا (1-سلاطین 8:27)۔ پھر بھی خدا نے اپنے لوگوں کو بتایا کہ ایک مقامی جگہ بھی ہوگی، جسے وہ خود مقرر کرے گا، جہاں وہ اپنا نام ظاہر کرے گا (استثناء 12:5)۔ خیمۂ اجتماع، جو ایک خیمہ تھا، موسیٰ کے دنوں سے ایلی کی موت تک یہ مقصد پورا کرتا رہا۔ خیمہ طوفان کے زمانے سے خدا کے وعدے سے وابستہ تھا۔ تب نوح نے نبوتی طور پر مستقبل میں جھانکا۔ اُس نے خدا کی برکت کو سم کے ڈیروں میں بستے دیکھا، جس کے سایہ تلے انسانیت کی دوسری شاخیں برکت پائیں گی (پیدائش 9:27)۔

سلیمان سے مسیح تک مقدس ایک پختہ عمارت تھا، یعنی یروشلیم کی ہیکل۔ خواہ منتقل ہونے والا خیمہ ہو یا ایک مستقل عمارت، مقدس کے ساتھ دھونے اور قربانی کے لیے ایک صحن منسلک تھا۔ نئے عہد نامے میں اپنے فضل کے کامل مکاشفہ کے حصے کے طور پر یسوع نے ساکرامنٹ مقرر کیے، ایک دھونے کا اور دوسرا اپنے بدن اور خون کا۔ یسوع نے اپنے بدن کو مقدس سے تشبیہ دی (یوحنا 2:19–21)، اور یہودیوں نے اُس پر الزام لگایا کہ وہ یروشلیم کی ہیکل کو ڈھا دینے کی دھمکی دیتا ہے (مرقس 14:58)۔ اپنے پہلے باب میں یوحنا رسول کلام کے کچھ عرصے کے لیے اپنے لوگوں کے درمیان “خیمہ زن” ہونے کا ذکر کرتا ہے (یوحنا 1:14)۔ یسوع کی موت پر ہیکل کے پردے کا پھٹ جانا اِس بات کی علامت تھا کہ زمینی مقدس کا خدا کی سکونت کی نمائندگی کرنے کا دور ختم ہو گیا (متی 27:51 اور عبرانیوں 10:20 کا موازنہ کریں)۔

ہم مقدس کے اندر کے سامان کو بھی معنی سے لبریز دیکھ سکتے ہیں۔ مقدس کے اندر پاک مقام میں ایک شمعدان اور روٹی کی میز تھی۔ یسوع نے اپنے آپ کو زندگی کی روٹی (یوحنا 6:31–35) اور دنیا کا نور (یوحنا 8:12؛ 9:5) کہا۔ پاک ترین مقام کے اندر عہد کے صندوق میں تین چیزیں تھیں: من، پتھر کی دو لوحیں اور ہارون کا عصا (عبرانیوں 9:4)۔ من کا مرتبان بیابان میں خدا کی پروردگاری کی یاد دلاتا ہے۔ پتھر کی لوحوں پر خدا کا وہ کلام کندہ تھا جو خدا نے اپنے نبی موسیٰ کو دیا۔ ہارون کا عصا وہاں اِس لیے تھا کہ خدا نے اُسے ہارون کی اِس حیثیت کی توثیق کے لیے استعمال کیا تھا کہ گناہ کے لیے قربانیاں گزراننے کے لیے وہی چنا گیا ہے۔ یسوع مسیح ہے، یعنی “مسح کیا ہوا”۔ اِس حیثیت سے وہ پروردگار بادشاہ، نبوتی کلام، اور وہ ہستی ہے جس نے بنی نوع انسان کے کامل سردار کاہن کے طور پر کافی و شافی قربانی پیش کی۔ عہد کے صندوق کے سرپوش ہی پر کفارے کا خون چھڑکا جاتا تھا۔ یسوع کے خون کے وسیلہ سے خدا اور گناہگاروں کا میل ہو جاتا ہے (رومیوں 3:25؛ 5:10)۔

ہم ایمان رکھتے ہیں یسوعؔ مسیح پر… جو… پنطُس پلاطُس کی حکومت میں دُکھ اُٹھایا۔ نبوت میں کوئی چیز اُس کی ہمسری نہیں کرتی جو رُوح القدس نے اسرائیل پر مسیح کے دکھوں کے بارے میں ظاہر کیا۔ زبور 41 اور 55 اُس شخص کا ذکر کرتے ہیں جس نے اُسے پکڑوایا۔ یسعیاہ 53 موت میں مسیح کی تذلیل کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ زبور 22 ہمیں وہ عین الفاظ دیتا ہے جو یسوع نے صلیب پر جہنم کی اذیتیں سہتے ہوئے کہے۔

اِن براہِ راست نبوتوں کے ساتھ قربانیوں کی بھرپور نبوتی علامتوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ ہر برّہ، بکرا یا بیل جس کا خون بہایا گیا، یسوع کی قربانی کی پیش بینی کرتا تھا۔ پرانے عہد نامے کی قربانی کی رسم میں کئی اعمال مقرر تھے۔ قربانی کو خدا کی مقرر کردہ جگہ پر لانا ضروری تھا۔ ہاتھ رکھنے کے ذریعے اُسے نیابتی بدل بنایا جاتا تھا۔ قربانی کے لیے موت لازم تھی۔ اِس میں کفارے کے لیے خون چھڑکنے پر زور تھا۔ اِس کا کچھ حصہ آگ میں جلایا جاتا تھا۔ اِن اعمال کا مفہوم بہت اہم ہے۔ یسوع اور صرف یسوع ہی خدا کی چنی ہوئی قربانی ہے۔ وہ ہمارا بدل ہے۔ اُس کی موت سے کم کوئی چیز گناہوں کی قیمت کے طور پر کافی نہ ہو سکتی تھی۔ اُس کا خون ہمیں ڈھانپتا ہے۔ یسوع کے بارے میں پولُس کہتا ہے: “اُسے خُدا نے اُس کے خُون کے باعِث ایک اَیسا کفّارہ ٹھہرایا جو اِیمان لانے سے فائِدہ مند ہو” (رومیوں 3:25) اور “مسِیح نے تُم سے مُحبّت کی اور ہمارے واسطے اپنے آپ کو خُوشبُو کی مانِند خُدا کی نذر کر کے قُربان کِیا” (افسیوں 5:2)۔

پرانے عہد نامے کی خونی قربانیاں درحقیقت گناہ کی قیمت ادا نہیں کرتی تھیں۔ وہ اُن نادانستہ گناہوں کے لیے گزرانی جاتی تھیں جو ایماندار کمزوری کے کسی لمحے میں کر بیٹھتے تھے (احبار 4:1)۔ قربانیاں وہ ایماندار لاتے تھے جنہیں اِس یقین دہانی کی ضرورت ہوتی تھی کہ اُن کی کمزوری کے گناہ اُنہیں خدا سے یا اسرائیل کی جماعت سے کاٹ نہیں دیں گے۔

چار خونی قربانیوں کا بیان احبار کے ابواب 1 تا 7 میں ہے۔ قربانیاں عموماً جوڑوں میں لائی جاتی تھیں۔ خطا کی قربانی اِس بات کا اقرار تھی کہ ایک خاص گناہ گناہگار اور خدا کے درمیان تعلق کے لیے خطرہ ہے۔ اِس کے ساتھ عموماً سوختنی قربانی ہوتی تھی۔ پوری طرح جلائے جانے کے ذریعے سوختنی قربانی خدا کی طرف سے پیش کی گئی کامل معافی کا اعلان کرتی تھی۔ جرم کی قربانی اُس وقت لائی جاتی تھی جب کوئی شخص اقرار کرتا کہ اُس نے اپنے پڑوسی کے خلاف گناہ کیا ہے۔ اِس کا جوڑ عموماً سلامتی کے ذبیحہ سے ہوتا تھا، جس کا ایک حصہ مذبح پر جلایا جاتا اور ایک حصہ میل ملاپ کے کھانے میں بانٹا جاتا تھا۔ ہر برّہ، بکرا یا بیل جس کا خون بہایا گیا، یسوع کی قربانی کی پیش بینی کرتا تھا۔ کفارہ کا عظیم دن اِس میں پورا ہوا کہ یسوع نے اپنا پاک اور بیش قیمت خون چھڑکا، تاکہ ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے اُس پاک خدا کے عدل کو پورا کرے جو ساتھ ہی اپنی راستباز ٹھہرانے والی محبت کا اعلان بھی کرنا چاہتا تھا۔ “ہم یِسُوع مسِیح کے جِسم کے ایک ہی بار قُربان ہونے کے وسِیلہ سے پاک کِئے گئے ہیں” (عبرانیوں 10:10)۔

ہم ایمان رکھتے ہیں یسوعؔ مسیح پر… جو… عالمِ برزخ (رُوحوں کے جہان) میں اُتر گیا اور دوبارہ تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھا، آسمان پر چڑھ گیا اور خُدا قادرِ مطلق باپ کے داہنی طرف بیٹھا ہے۔ جہاں سے وہ زندوں اور مُردوں کا انصاف کرنے آئے گا۔ یسوع کی سربلندی، جس نے بنی نوع انسان کو بچانے کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنا سب کچھ دے دیا، نبیوں میں وسیع پیمانے پر پیش سایہ کے طور پر دکھائی گئی ہے۔ تقریباً سب کے سب نبی آخری دنوں میں ایک کایا پلٹ کی پیشین گوئی کرتے ہیں، کچھ سادہ اور صاف زبان میں، کچھ شاندار رویاؤں میں۔ ذلیل کیا گیا اسرائیل بحال کیا جائے گا۔ سوکھی ہڈیاں زندہ ہو جائیں گی (حزقی ایل 37)۔ جنگیں موقوف ہو جائیں گی (یسعیاہ 2:4؛ میکاہ 4:3)۔ موت اپنا ڈنک کھو دے گی (ہوسیع 13:14، جس کا اقتباس 1-کرنتھیوں 15:55 میں ہے)۔ قید کرنے والوں کو قید کر کے لے جایا جائے گا (زبور 68:18، جس کا اقتباس افسیوں 4:8 میں ہے)۔ خداوند عالمِ بالا پر چڑھ جائے گا (زبور 68:18؛ اعمال 1:11)۔ خدا اپنے لوگوں کے درمیان سلطنت کرے گا (زکریاہ 9:9–13؛ متی 21:5)۔ جو خداوند کے ہیں وہ آرام پائیں گے (یرمیاہ 50:34؛ متی 11:28)۔

نبوت اور نبوتی موضوعات کا مندرجہ بالا جائزہ محض ایک جائزہ ہے، لیکن اِس سے کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ خداوند یسوع مسیح کی کس قدر وسیع پیمانے پر پیشین گوئی کی گئی اور پیش سایہ دکھایا گیا۔ اوپر درج کچھ باتیں ایسی نبوتیں ہیں جنہیں نیا عہد نامہ خود نبوت قرار دیتا ہے۔ کچھ ایسی نہیں ہیں۔ اگلے پیراگراف اُنہی کے بارے میں ہیں جو ایسی نہیں ہیں۔ پرانے عہد نامے میں مسیح کو دیکھنے میں ایک مفسر کہاں تک جا سکتا ہے؟

خدا نے اسرائیل کو آرام کے موضوع پر ایک مکمل سبق دیا۔ دس احکام میں ساتویں دن آرام کرنے کا الٰہی حکم شامل تھا (خروج 20:8–11؛ استثناء 5:12–15)۔ ساتواں سال کھیتوں، باغوں اور تاکستانوں کے لیے آرام کا سال تھا (احبار 25:1–7)۔ یہ غلاموں کو آزاد کرنے اور قرض معاف کرنے کا وقت بھی تھا (خروج 21:2؛ استثناء 15:1–15)۔ ہر ساتویں سبت کے سال کے بعد والے سال میں، یعنی پچاسویں سال، آبائی زمینیں اپنے مالکوں کو لوٹ جاتی تھیں (احبار 25:13)۔ سبت کا مطلب ہے آرام۔ عبرانیوں کی کتاب کے مطابق (4:1–13) یسوع ہمیشہ کی زندگی کی بخشش کے ذریعے سبت کو پورا کرتا ہے۔

لیکن ساتویں مہینے کے آرام کا کیا؟ کیا ساتویں مہینے کی عیدوں میں اُسی آرام کو دیکھنا جائز ہے جس کا ذکر عبرانیوں کی کتاب میں ہے؟

ہمارا طریقہ یہ ہوگا کہ جو ہم جانتے ہیں اُس سے آگے بڑھ کر اپنے سوال کے جواب تک پہنچیں۔ ہم فسح سے شروع کرتے ہیں، جو پہلے مہینے کی بڑی عید ہے۔ نیا عہد نامہ عیدِ فسح کو ایک پوری ہوئی نبوت کے طور پر کسی قدر تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ پولُس نے یسوع کو فسح کا ذبح کیا ہوا برّہ قرار دیا (1-کرنتھیوں 5:7)۔ یوحنا رسول بتاتا ہے کہ یسوع کی موت فسح کے موقع پر ہوئی (یوحنا 13:1)۔ یوحنا بپتسمہ دینے والے نے لگاتار دو دن یسوع کو خدا کا وہ برّہ پہچانا جو دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے (یوحنا 1:29، 36)۔ اُن الفاظ میں جو خروج 12:5 میں فسح کے برّے کے بیان کی بازگشت ہیں، پطرس نے کہا: “تُمہاری خلاصی… ایک بے عَیب اور بے داغ برّے یعنی مسِیح کے بیش قِیمت خُون سے” ہوئی (1-پطرس 1:18–19)۔ فسح کے بعد والے سبت کے اگلے دن خداوند کے حضور غلے کی فصل کے پہلے پھل ہلانے کی رسم (احبار 23:9–14) کو یاد کرتے ہوئے پولُس یسوع کو “جو سو گئے ہیں اُن میں پہلا پَھل” کہتا ہے (1-کرنتھیوں 15:20)۔ پولُس کو توقع ہے کہ مسیح کی قیامت اُن لوگوں کو بھی جی اُٹھنے کی قدرت دے گی جو اُس کے ہیں (1-کرنتھیوں 15:23)۔ مزید یہ کہ یسوع نے پاک جمعرات (Maundy Thursday) کو اپنے شاگردوں کے ساتھ فسح اِس انداز سے منائی جسے صرف تکمیل ہی کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ فسح کے کھانے کی روٹی اور مے کو یسوع نے مخصوص کیا تاکہ وہ ایک نئے عہد کے نشان ہوں۔ فسح کی یہ غذائیں وہ ظاہری نشان ہوں گی جن میں، جن کے ساتھ اور جن کے تحت ایماندار وہ بدن اور خون پائیں گے جو بنی نوع انسان کے گناہ کی معافی کے لیے پیش کیا گیا۔ مزید برآں فسح فتح کی عید تھی۔ مصر میں فسح کی قربانی نے موت کے فرشتے کو ٹال دیا تھا۔ یہ غلامی سے آزادی کا اشارہ تھا۔ پوری ہوئی فسح کی قربانی کے طور پر یسوع کی موت نے تیسرے دن موت کی شکست کی پیش بینی کی۔ مسیح کی قیامت نے گناہ سے آزادی کے خدا کے اعلان کو ممکن بنایا۔ “وہ ہمارے گُناہوں کے لِئے حوالہ کر دِیا گیا اور ہم کو راست باز ٹھہرانے کے لِئے جِلایا گیا” (رومیوں 4:25)۔

فسح زیارت کی اُن تین عیدوں میں پہلی تھی جن میں اسرائیل کے ہر بالغ مرد کو خداوند کے حضور حاضر ہونا لازم تھا (خروج 23:14–17)۔ یہ اِتنی اہم تھی کہ خدا نے عبرانی باپوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے بچوں کو اِس کا مطلب سکھائیں (خروج 12:26–27)۔ باپ ہر سال اپنے بچوں کو بتاتے تھے کہ کس طرح خدا زورآور ہاتھ اور بڑھائے ہوئے بازو سے موسیٰ اور اسرائیل کو مصر کی غلامی سے نکال لایا۔ یسوع، یوحنا بپتسمہ دینے والے اور پولُس نے بچپن میں یہ سبق اچھی طرح سیکھے۔ اُنہوں نے فسح کے پچاس دن بعد آنے والی اُس زیارتی عید کے بارے میں بھی سیکھا جو غلے کی سالانہ فصل کے اختتام کی نشاندہی کرتی تھی (احبار 23:15–22؛ گنتی 28:26–29) اور کوہِ سینا پر دس احکام کے دیے جانے کی یاد دلاتی تھی۔12 رسولوں نے یسوع کی موت اور قیامت کے سات ہفتے بعد اِس کی تکمیل کا جشن منایا۔ پینتکوست کے اُس یادگار دن رُوح القدس نے خدا کی ایک نئے سرے سے پیدا ہونے والی قوم پر اپنی قدرت نازل کی، ایسی قوم جو پرانے عہد نامے کی شریعت کے تحت نہیں تھی بلکہ ایک نیا اسرائیل تھی جسے انجیل نے آزاد کیا۔

رسولی کلامِ مقدس سکھاتا ہے کہ فسح اور پینتکوست اُن عظیم واقعات میں پوری ہوئیں جو مسیح کی پہلی آمد کو اُس کے فاتحانہ انجام تک لے گئے۔ لیکن تیسری زیارتی عید، عیدِ خیام، کا کیا جو پرانے عہد نامے کے یہودی سال کے ساتویں مہینے کے وسط میں آتی تھی؟ اِس ہفتہ بھر کے جشن کا کیا جو یسوع کے زمانے میں “بڑی عید” کہلاتا تھا؟13 اور اُس مقدس دن کا کیا جس سے ساتواں مہینہ شروع ہوتا تھا، یعنی نرسنگوں کی عید؟ اِن میں سے کسی دن کی بھی تکمیل کے سیاق میں صراحت سے وضاحت نہیں کی گئی، اگرچہ کفارہ کے دن کی، جو ساتویں مہینے میں اِن دونوں کے درمیان آتا تھا، یقیناً کی گئی ہے۔

پرانے عہد نامے کے ماحول میں ساتویں مہینے کی یہ عیدیں کیا تھیں؟ نرسنگوں کی عید سال کی نئے چاند کی سب سے اہم عید تھی۔ اِس سے ساتواں مہینہ شروع ہوتا تھا۔ اِس دن کاہن نرسنگے پھونکتے تھے (احبار 23:23–25؛ گنتی 29:1–6)۔ کفارہ کا دن، دس دن بعد، لوگوں کے لیے روزے اور نفس کشی کا دن تھا (احبار 16:29؛ 23:27–32)۔ اِس دن یہودی سردار کاہن اپنے خوبصورت کاہنانہ لباس اُتار کر قربانی کے خون کے ساتھ پاک ترین مقام میں داخل ہوتا تاکہ اپنے اور اسرائیل کے گناہوں کا کفارہ دے (احبار 16؛ 23:26–32)۔ اِس کے برعکس عیدِ خیام ہفتہ بھر کا جشن تھا جو ساتویں مہینے کے پورے چاند پر شروع ہوتا تھا۔ یہ گرمیوں کے اُن پھلوں کو جمع کرنے کا موقع تھا جو پچھلے چھ مہینوں میں بارش نہ ہونے کے باوجود پک گئے تھے۔ عیدِ خیام وہ وقت تھا جب لوگ خاندانی گھر سے نکل کر عارضی جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ یہ عارضی مسکن اُن عارضی جھونپڑیوں کی یاد دلاتے تھے جو اسرائیل نے وعدہ شدہ ملک میں داخل ہونے سے پہلے بیابان میں چالیس برس کی آوارہ گردی کے دوران استعمال کیں (احبار 23:33–43)۔ عیدِ خیام وہ وقت تھا جب پرانے عہد نامے کے بادشاہ موسیٰ کی شریعت پڑھتے اور نئی چیزوں کو مخصوص کرتے تھے (2-تواریخ 5:3؛ نحمیاہ 8:14–18)۔ زکریاہ نبی مستقبل کے بارے میں اپنی رویا کو اِس منظر پر ختم کرتا ہے کہ سب قوموں کے لوگ عیدِ خیام منانے کے لیے یروشلیم کی طرف اُمڈے چلے آ رہے ہیں (14:16–21)۔

نئے عہد نامے میں ایسی سچائیاں بیان ہوئی ہیں جو ساتویں مہینے کی عیدوں کی یاد دلاتی ہیں، اگرچہ اُن میں سے کوئی بھی صراحت سے یہ تعلق قائم نہیں کرتی۔ ہماری موعودہ میراث آسمان پر ہے (1-پطرس 1:3–4)۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اپنے “وعدہ شدہ ملک” کی راہ میں جو نیک کام ہم ایمان سے کرتے ہیں وہ ہمارے پیچھے آئیں گے۔ آسمان پر ہم اپنی اُن محنتوں کے پھل سے لطف اندوز ہوں گے جن کا محرک مسیح ہے۔ یسوع اِن کے بارے میں کہتا ہے: “تُمہارا پَھل قائِم رہے” (یوحنا 15:16)۔ مکاشفہ میں اِس خیال کی بازگشت ہے۔ وہاں یوحنا ہمیں بتاتا ہے کہ مقدسوں کے اعمال ابدیت میں اُن کے ساتھ جاتے ہیں (14:13)۔ لیکن ہم اپنی موعودہ میراث صرف اُسی صورت میں پائیں گے جب ہم اپنا اور اپنے کیے کا انکار کریں (متی 16:24؛ مرقس 8:34؛ لوقا 9:23) اور صرف یسوع کے کفارہ بخش خون پر بھروسا کریں (1-یوحنا 2:2؛ 4:10؛ نیز رومیوں 3:25؛ عبرانیوں 2:17)۔ آخری دن مقدسوں کے الفاظ اپنی تعریف آپ کرنے والے نہیں ہوں گے (متی 25:37–39)۔ مقدسوں کی امید یسوع کا بہایا ہوا خون ہوگا۔ یہ خون وہ ہستی، جو کاہن بھی ہے اور قربانی بھی، باپ کے حضور اُس کے پاک ترین مقام میں لے جاتی ہے (عبرانیوں 9:12، 24)۔ عبرانیوں کا مصنف واضح کرتا ہے کہ مسیح کا کفارہ اُس کی پہلی آمد پر پورا ہو گیا، اور پھر اِس کفارے کے اثر کو آخری عدالت کی طرف منتقل کرتا ہے: “جِس طرح آدمِیوں کے لِئے ایک بار مَرنا اور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مُقرّر ہے۔ اُسی طرح مسِیح بھی ایک بار بُہت لوگوں کے گُناہ اُٹھانے کے لِئے قُربان ہو کر دُوسری بار بغَیر گُناہ کے نجات کے لِئے اُن کو دِکھائی دے گا جو اُس کی راہ دیکھتے ہیں” (9:27–28)۔ راستباز ٹھہرانے والی عدالت سے پہلے نرسنگوں کی آواز ہوگی (1-کرنتھیوں 15:52؛ 1-تھسلنیکیوں 4:16) اور اُس کے بعد ابدی جشن کا زمانہ ہوگا۔ جب مسیح زندوں اور مُردوں کا انصاف کرنے کو لوٹے گا تو وہ واقعات کا ایک ایسا سلسلہ شروع کرے گا جو اُن لوگوں کو آرام دے گا جو زندگی میں اُس کی موت اور قیامت کی قدرت پر ایمان رکھتے تھے۔ بادشاہوں کے بادشاہ کی حیثیت سے وہ تمام انسانی تاریخ کو معنی عطا کرے گا۔ اُس دن وہ آسمان اور زمین اور جو کچھ اُن میں ہے سب کو نئے سرے سے ڈھالے گا۔

کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پرانے عہد نامے کے کیلنڈر کے ساتویں مہینے کے مقدس دن بھی فسح اور پینتکوست کی طرح پوری طرح نبوتی ہیں؟ یقیناً کہا جا سکتا ہے! ساتویں مہینے کی عیدیں اُس کامل آرام کی پیش بینی کرتی ہیں جس کا ایماندار مسیح کی آمدِ ثانی پر انتظار کرتے ہیں۔ وہ یہ اُسی طرح کرتی ہیں جس طرح فسح اور پینتکوست نے اُس کی پہلی آمد کے سلسلے میں اُن واقعات کو پورا کیا جن کی پیش بینی نبوتی مکاشفہ میں کی گئی تھی۔ خدا نے کنعان کے زرعی سال کے دونوں سروں پر آنے والے اوقات کو اِس لیے استعمال کیا کہ اپنے لوگوں کو ماضی میں اپنی محبت کے کاموں کی یاد دلائے۔ یہ ہم جانتے ہیں۔ اِسی طرح خدا نے بہار اور خزاں کی فصلوں کو اِس طرح ترتیب دیا کہ اپنے پرانے عہد نامے کے لوگوں کو مسیح میں اُن کے شاندار مستقبل کے لیے تیار کرے۔ ساتویں مہینے کی تینوں عیدوں کے مفہوم کو واضح کرنے کے عمل میں کلامِ مقدس کی کوئی بات رد نہیں ہوئی۔ کلامِ مقدس ٹوٹا نہیں۔

اگر احتیاط برتی جائے تو پرانے عہد نامے میں مسیح کی معموری سے سیر ہونے کی راہ ہمارے لیے کھلی ہے۔ ساتھ ہی ہمارے جوش کو اِس آگاہی سے معتدل رہنا چاہیے کہ لاپروا تفسیر کے نتیجے میں مسیحی کلیسیا کو شدید نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔

مشرقی کلیسیا تیسری صدی کے کلیسیائی عالم اوریگن اور اسکندریہ، مصر، میں قائم تفسیری مکتبِ فکر سے بہت متاثر ہوئی۔ اوریگن نے کلامِ مقدس کو اپنے زمانے کی عالمانہ آرا کے مطابق ڈھالا۔ اُسے کلامِ مقدس کو انسانی حکمت کے مطابق ڈھالنے کی تمام جدید کوششوں کا باپ کہا جا سکتا ہے۔ جب کلامِ مقدس کے کچھ حصے زندگی کو اُس کی تمام خامیوں سمیت بیان کرتے تو اوریگن کو ٹھوکر لگتی۔ متن میں ظاہری تضادات اُس کے لیے ناقابلِ برداشت تھے۔ نہ بھونڈی حقیقت نگاری اور نہ لاپروا بیان خدا کے ذہن کے شایانِ شان تھے۔ نتیجتاً اوریگن نے اپنے آپ کو اور اپنے پیروکاروں کو قائل کیا کہ کلامِ مقدس کے سادہ بیانات سے پرے ایک گہرا مطلب دیکھیں۔ جلد ہی ہر عبارت کے پیچھے، بالخصوص پرانے عہد نامے میں، پوشیدہ مطلب کی کئی تہیں دیکھنا رواج بن گیا۔ کلامِ مقدس کے سادہ، لفظی مفہوم کو علامتی، مجازی، اخلاقی اور صوفیانہ تشریحات کے حق میں ایک طرف کر دیا گیا۔

اِس میں سے کچھ مغربی کلیسیا میں بھی سرایت کر گیا۔ تاہم وہاں تفسیر کو فلسفے نے پٹڑی سے نہیں اُتارا، بلکہ روایت نے۔ مصروف اور بوجھ تلے دبے کلیسیائی رہنما زیادہ سے زیادہ پارسا آرا پر انحصار کرنے لگے۔ یہ آرا معتبر کلیسیائی حکام نے جمع کیں اور آگے منتقل کیں۔ جب رومی سلطنت کا قائم کردہ سیاسی استحکام ختم ہوا اور اُس سے پیدا ہونے والا خلا قرونِ وسطیٰ کی بدنظمی اور جہالت نے پُر کیا تو روایت ارتقا پا کر کلیسیائی قانون بن گئی۔ لوتھر کے زمانے تک کلامِ مقدس کلیسیا کا قیدی بن چکا تھا۔ قرونِ وسطیٰ کی کلیسیا کی اپنی روایتی تعلیمات تھیں۔ وہ ثبوت ڈھونڈنے کے لیے بائبل کے پاس جاتی تھی، نہ کہ اِس کے برعکس۔

لوتھر نے ایمانداروں کی نظریں خود کلامِ مقدس کے اختیار کی طرف پھیریں۔ لوتھر نے زور دے کر کہا کہ صرف بائبل ہی میں اپنی تشریح آپ کرنے کی قدرت ہے۔ سیاق و سباق میں الفاظ کے سادہ مفہوم کو سنجیدگی سے لینا ضروری تھا۔ چونکہ حقیقی کلیسیا اُن لوگوں کی ہے جو کلام اور ساکرامنٹ سے سیر ہوتے ہیں، اِس لیے لوتھر کو توقع تھی کہ رُوح القدس خوب سیر شدہ دلوں کی رہنمائی کرے گا کہ وہ سچائی کا صحیح اور معقول اقرار کریں۔ اُس کا ماننا تھا کہ کلامِ مقدس سے مسلح عام ایماندار پوپوں اور کونسلوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ لوتھر ہر طرح سے بائبل پڑھنے والے لوگوں کو واپس خداوند یسوع مسیح کی طرف لے گیا، نہ کہ انسانی حکمت یا انسانی روایت کی طرف۔

جہاں لوتھر کھڑا تھا، ہمیں بھی وہیں کھڑا ہونا چاہیے۔ ہمیں لوتھر سے آگے بڑھ کر کلامِ مقدس کو ٹھونک پیٹ کر ایک نظام بند، زبردستی ہم آہنگ کی گئی عقائدی تخلیق میں نہیں ڈھالنا چاہیے۔ اِس کا نتیجہ بے جان راسخ العقیدگی پرستی ہوگا۔ نہ ہی ہمیں لوگوں کی اصلاح کرنے اور ظاہری طور پر بہتر مسیحی رفاقت زبردستی قائم کرنے کی پارسا خواہش کو اجازت دینی چاہیے کہ وہ ہمیں کلامِ مقدس کے الفاظ اور سیاق و سباق کو جانچنے کے کٹھن کام سے ہٹا دے۔ یہ بے مغز پارسائی پرستی (پائٹزم) ہوگی۔ ہمیں اوریگن کے جدید شاگردوں کے ساتھ قدم ملا کر بھی نہیں چلنا چاہیے۔ وہ اُس چیز کو اساطیر سے پاک کرتے اور اُس کی چیر پھاڑ کرتے ہیں جو خدا نے بہت پہلے ظاہر کی۔ بائبل کو معنی دینے کے بجائے وہ کلام کو خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ نہ ہی کلامِ مقدس کو مذہبی “بقائے اصلح” سمجھا جانا چاہیے۔ خدا کی سچائی بے ربط ابتدائی تحریروں سے ارتقا پا کر کوئی ایسی ضخیم کتاب نہیں بنی جسے اب بھی تدوین کی ضرورت ہو۔ سب سے بڑھ کر، ہم جو قدامت پسند اقراری ورثے کے وارث ہیں، ہمیں قرونِ وسطیٰ کے انداز میں اپنے کلیسیائی رہنماؤں کی ہر بات، صحیح ہو یا غلط، محض اِس لیے نہیں ماننی چاہیے کہ ہم بہت مصروف، بہت پریشان حال یا بہت بے علم ہیں۔

کلیسیا کی تاریخ ہمیں اُس منفرد مقام کی قدر کرنے کی ایک نہایت عمدہ وجہ دے سکتی ہے جو پوری ہوئی نبوت خدا کے منصوبے میں رکھتی ہے۔ پرانے عہد نامے میں مسیح کو تلاش کرنا راست عقیدہ ہے۔ تاہم زندگی بھر کی محتاط تلاش بھی پہلے سے تیار شدہ عقائدی پیکٹ فراہم نہیں کرے گی۔ پرانے عہد نامے میں مسیح کو تلاش کرنے کے لیے ایک اچھے تاریخی و تفسیری مفسر کی مہارت درکار ہے۔ پھر بھی ہمارا بہترین تجزیہ بھی اُس رُوح کے پُراسرار کام کی وضاحت نہیں کر سکے گا جو عقل کو گراتا اور زندگی کے لیے ایمان کو تعمیر کرتا ہے۔ موسیٰ نبی اور یوحنا رسول کے درمیان پورے 1500 برس کے دورانیے میں مسیح کو ایک مستقل انداز میں ظاہر ہوتے دیکھنا اِس بات کو تقریباً ناممکن بنا دیتا ہے کہ کسی ایک شخص یا کسی ایک نسل کی حکمت کو کلامِ مقدس کے منصف اور جیوری کا درجہ دیا جائے۔ پرانے عہد نامے میں مسیح کی دریافت ہمیں یہ اجازت بھی نہیں دے گی کہ ہم ظاہری کلیسیا اور اُس کے رہنماؤں کی روایات کو مقدس مقام پر بٹھا دیں۔ خداوند یسوع کلیسیا کے لیے آخری کلام ہے، نہ کہ اِس کے برعکس۔

یقیناً خداوند یسوع مسیح، جیسا کہ نبیوں نے اُس کی پیش بینی کی اور رسولوں نے اُس کی منادی کی، ہی ہمارا سب کچھ ہے!

حواشی

12 پینتکوست کو دس احکام کے دیے جانے کی سالگرہ ماننا یہودی روایت کا حصہ ہے۔ اسرائیل نے مصر سے سینا تک کا سفر تیسرے مہینے میں “اُسی دِن” مکمل کیا (خروج 19:1)۔ فسح پہلے مہینے کے وسط میں ہوئی، جس سے دو ہفتے باقی رہ گئے۔ اِن دو ہفتوں میں دوسرے مہینے کے 28 یا 29 دن جمع کریں۔ پھر تیسرے مہینے کا آغاز کرنے والے “اُسی دِن” میں تیاری کے تین دن جمع کریں (خروج 19:15)۔ اگر تیاری سے پہلے خیمہ گاہ قائم کرنے میں (خروج 19:2) مزید چار دن لگے تو مصر میں پہلی فسح سے لے کر دس احکام کے دیے جانے تک کل 50 دن بنتے ہیں (14+29+4+3)۔

13 یہودی مؤرخ یوسیفس عیدِ خیام کو عبرانی عیدوں میں سب سے مقدس اور سب سے بڑی عید سمجھتا تھا، Antiquities VIII، iv، 1۔ یسوع نے اِس عید کی تعظیم کی (یوحنا 7)، جس میں کسی بھی دوسری عید سے زیادہ قربانیاں ہوتی تھیں (گنتی 29)۔

پادری Dr. John C. Lawrenz (1943–2024) نے اپنی خدمت کا آغاز گینزویل، فلوریڈا میں Zion Lutheran Church کے پادری کے طور پر کیا۔ بعد ازاں وہ Michigan Lutheran Seminary اور Dr. Martin Luther College کے صدر اور Wisconsin Lutheran Seminary میں پرانے عہد نامے کے پروفیسر رہے۔ اُنہوں نے Brandeis University سے غیر ملکی زبان میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں، اور اِس کے بعد بحیرۂ روم کے مطالعات میں PhD کی ڈگری لی۔ اُنہوں نے اپنی خدمت ہانگ کانگ میں Asia Lutheran Seminary کے بانی صدر کے طور پر مکمل کی، جہاں وہ تدریس بھی کرتے رہے۔ اُنہوں نے اسرائیل میں آثارِ قدیمہ کی کئی اہم کھدائیوں میں حصہ لیا، عبرانی اور پرانے عہد نامے کے اپنے طلبہ کے ساتھ اسرائیل کے سفر کیے، عالمی مشن کے مختلف میدانوں میں اپنی مطالعاتی رخصتیں گزاریں، اور سی ای ایل سی بھر میں ایک مقبول مقرر تھے۔ Dr. Lawrenz کو 22 ستمبر 2024ء کو جلال میں اپنے گھر بلا لیا گیا۔

بائبل کے اقتباسات کِتابِ مُقدّس (ریوائزڈ اُردو ورژن، پاکستان بائبل سوسائٹی) سے لیے گئے ہیں۔