CELC

GTEC نیوز لیٹر — اکتوبر 2026

سی ای ایل سی · عالمی الٰہیاتی تعلیمی کمیشن (GTEC)

سی ای ایل سی کا عالمی الٰہیاتی تعلیمی کمیشن (GTEC) اِس مقصد کے لیے قائم ہے کہ الٰہیاتی تعلیم سے وابستہ اساتذہ کو ایک دوسرے سے جوڑے، اور باہمی گفت و شنید کے مواقع فراہم کر کے اُن کے درمیان الٰہیاتی رفاقت کو فروغ دے۔

GTEC کے اراکین

عبادتی پیغام

کلامِ مقدّس اور تاریخ کے وسیلہ سے مسیح کا اقرار

25اُس نے اُن سے کہا اَے نادانو اور نبِیوں کی سب باتوں کے ماننے میں سُست اِعتقادو! 26کیا مسِیح کو یہ دُکھ اُٹھا کر اپنے جلال میں داخِل ہونا ضرُور نہ تھا؟ 27پِھر مُوسیٰ سے اور سب نبِیوں سے شرُوع کر کے سب نوِشتوں میں جِتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئی ہیں وہ اُن کو سمجھا دِیں۔

44پِھر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہیں جو مَیں نے تُم سے اُس وقت کہی تِھیں جب تُمہارے ساتھ تھا کہ ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی تَورَیت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں۔ 45پِھر اُس نے اُن کا ذِہن کھولا تاکہ کِتابِ مُقدّس کو سمجھیں۔ 46اور اُن سے کہا یُوں لِکھا ہے کہ مسِیح دُکھ اُٹھائے گا اور تِیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔ 47اور یروشلِیم سے شرُوع کر کے سب قَوموں میں تَوبہ اور گُناہوں کی مُعافی کی مُنادی اُس کے نام سے کی جائے گی۔ 48تُم اِن باتوں کے گواہ ہو۔
لوقا 24:25–27، 44–48

مسیح میں عزیز بھائیو،

جب یسوع اِمّاؤس کی راہ پر اُن دو شاگردوں سے ملا تو وہ اُلجھن اور مایوسی میں تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یروشلیم میں کیا ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یسوع کو مصلوب کیا گیا تھا۔ اُنہوں نے یہ خبریں بھی سُنی تھیں کہ قبر خالی ہے۔ اُن کے پاس بہت سی معلومات تھیں، مگر وہ ابھی تک یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اِن واقعات کا مطلب کیا ہے۔

یسوع نے اُن کی اِس اُلجھن کا جواب ایک قابلِ غور طریقے سے دیا۔ اُس نے اُن کی توجہ دوبارہ کتابِ مقدّس کی طرف پھیر دی۔

«پِھر مُوسیٰ سے اور سب نبِیوں سے شرُوع کر کے سب نوِشتوں میں جِتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئی ہیں وہ اُن کو سمجھا دِیں۔»
لوقا 24:27

بعد میں، جب یسوع اپنے شاگردوں پر ظاہر ہوا، تو اُس نے پھر فرمایا:

«ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی تَورَیت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں۔»
لوقا 24:44

یہ الفاظ ہمیں ایک ایسی بنیادی بات یاد دلاتے ہیں جو پادریوں اور الٰہیاتی اساتذہ کی حیثیت سے ہمارے کام کی جڑ ہے: مسیحی ایمان خُدا کے بارے میں انسانی قیاس آرائی سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ اِس حقیقت سے کہ خُدا نے اپنے کلام میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے۔ اور اُس کلام کے مرکز میں یسوع مسیح ہے۔

کتابِ مقدّس ہمیں مسیح کی طرف لے جاتی ہے

پرانا عہدنامہ محض قدیم اسرائیل کی مذہبی تاریخ نہیں۔ نہ ہی یہ صرف اخلاقی مثالوں، احکام، شاعری اور نبوّتوں کا مجموعہ ہے۔ یسوع ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم پہچانیں کہ کتابِ مقدّس اُسی کی گواہی دیتی ہے۔

نجات کے بارے میں خُدا کا وعدہ کتابِ مقدّس کی ساری تاریخ میں جاری و ساری ہے۔

عورت کی نسل سانپ کے سر کو کُچلے گی (پیدائش 3:15)۔ ابرہام کی نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی (پیدائش 22:18)۔ داؤد کا ایک بیٹا ہمیشہ تک بادشاہی کرے گا (2-سموئیل 7:16)۔ یسعیاہ نے اُس خادم کا ذکر کیا جو «ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعِث کُچلا گیا» (یسعیاہ 53:5)۔

یہ وعدے ہمیشہ کے لیے محض وعدے ہی نہیں رہے۔
یہ یسوع مسیح میں پورے ہوئے۔

اِسی لیے مسیح کا آنا انجیل یعنی خوشخبری ہے۔ خُدا نے وہی کیا جس کا اُس نے وعدہ کیا تھا۔ خُدا کا بیٹا ہماری انسانی تاریخ میں داخل ہوا، اُس نے ہمارا جسم اختیار کیا، ہماری جگہ شریعت کے ماتحت زندگی گزاری، ہمارے گناہوں کو صلیب تک اُٹھا لے گیا، ہماری موت مرا، اور «ہم کو راست باز ٹھہرانے کے لِئے جِلایا گیا» (رومیوں 4:25)۔

پس ہمارا ایمان اِس بات پر قائم نہیں کہ ہم خُدا کو ڈھونڈ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ اُس خُدا پر قائم ہے جو خود ہمارے پاس آیا ہے۔

کلیسیا اُس مسیح کا اقرار کرتی ہے جو کتابِ مقدّس میں ظاہر ہوا ہے

لیکن لوقا 24 اِس بات پر ختم نہیں ہوتا کہ یسوع نے کتابِ مقدّس کی تشریح کی۔

یسوع اپنے شاگردوں سے یہ بھی فرماتا ہے:

«تُم اِن باتوں کے گواہ ہو۔»
لوقا 24:48

جو کلام مسیح کو ظاہر کرتا ہے، وہی ایسے گواہ بھی پیدا کرتا ہے جو مسیح کا اقرار کرتے ہیں۔

اِس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں کلیسیا کا اقرارِ ایمان کیوں اِتنی اہمیت رکھتا ہے۔

رسولوں کے تین صدیاں بعد، 325ء میں، مسیحی نقایاہ میں جمع ہوئے۔ اُس وقت یسوع مسیح کی ذات کے بارے میں ایک سنگین تنازع برپا تھا۔ مرکزی سوال محض فلسفیانہ نہیں تھا: یہ یسوع کون ہے جس کی منادی کتابِ مقدّس کرتی ہے؟

کلیسیا نے یسوع مسیح کے بارے میں یہ اقرار کیا:

«خُدا سے خُدا۔ نور سے نور۔ حقیقی خُدا سے حقیقی خُدا۔»
عقیدۂ نقایاہ

نقایاہ میں جمع ہونے والے کلیسیائی بزرگوں کا مقصد کوئی نیا مسیح گھڑنا نہیں تھا۔ وہ وفاداری سے اُسی مسیح کا اقرار کرنا چاہتے تھے جس کی منادی رسولوں نے کی اور جسے کتابِ مقدّس ظاہر کرتی ہے۔

یہ امتیاز آج ہمارے لیے بھی اہم ہے۔

کلیسیا سچائی کو تخلیق نہیں کرتی۔ کلیسیا سچائی کو خُدا کے کلام سے پاتی ہے اور اُس کا اقرار کرتی ہے۔

پس کتابِ مقدّس پہلے آتی ہے؛ اقرار اُس کے بعد۔

پھر بھی وفادار اقرار اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ہر نسل کو یسوع کے اِس سوال کا جواب دینا ہے: «مگر تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟» (متّی 16:15)

ہم ایک ہی اقرار میں قائم ہیں

یہ بات سی ای ایل سی میں ہمارے لیے خاص طور پر معنی خیز ہے۔

ہم مختلف ملکوں سے آتے ہیں۔ ہم مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ ہم مختلف الٰہیاتی درسگاہوں میں پڑھاتے ہیں۔ ہمارے طالب علم مختلف ثقافتی ماحول میں رہتے ہیں۔ ہماری کلیسیاؤں کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔

پھر بھی ہمارا اقرار ایک ہے۔

ہمارا کوئی ایشیائی مسیح، افریقی مسیح، یورپی مسیح یا امریکی مسیح نہیں۔ ہم اُس ایک خُداوند یسوع مسیح کا اقرار کرتے ہیں جس کی منادی نبیوں اور رسولوں نے کی۔

یہی بات الٰہیاتی تعلیم کو اُس کا مقصد بھی عطا کرتی ہے۔

ہمارا کام محض الٰہیاتی معلومات کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنا نہیں۔ نہ ہی صرف کسی ادارے کو قائم رکھنا یا کسی علمی روایت کو برقرار رکھنا ہے۔

ہمارا کام ایسے خادمانِ کلام کی تیاری میں مدد دینا ہے جو کتابِ مقدّس کو جانیں، مسیح کی منادی کریں، شریعت اور انجیل میں امتیاز کریں، مسیح کے ساکرامنٹوں کی خدمت وفاداری سے انجام دیں، اور اپنے اپنے ماحول میں رسولی ایمان کا واضح اقرار کریں۔

یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔
اور اِسے ہمیں فروتن بھی بنانا چاہیے۔

مسیح ہی مرکز رہتا ہے

ہم جو الٰہیات پڑھاتے ہیں، آسانی سے بہت سی چیزوں میں مشغول ہو سکتے ہیں: نصاب کی تیاری، تعلیمی منظوری (ایکریڈیٹیشن)، انتظامی امور، علمی تحقیق، زبانوں کی تدریس، اجلاس، مقالے، جانچ و امتحانات، اور ادارہ جاتی منصوبہ بندی۔

یہ سب کام ضروری ہو سکتے ہیں۔

لیکن لوقا 24 ہمیں مرکز کی طرف واپس بلاتا ہے۔

مسیح کتابِ مقدّس کو کھولتا ہے۔
مسیح کتابِ مقدّس کو پورا کرتا ہے۔
مسیح گنہگاروں کے لیے دُکھ اُٹھاتا ہے۔
مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھتا ہے۔
مسیح اپنے گواہوں کو بھیجتا ہے۔
اور مسیح ہی کلیسیا کی منادی کا مضمون رہتا ہے۔

کلیسیا کی تاریخ اِسی لیے قیمتی ہے کہ اُس میں ہم مسیحیوں کی نسلوں کو اُسی ذمہ داری کے ساتھ جدوجہد کرتے دیکھتے ہیں جو ہمیں سونپی گئی ہے: جو کچھ خُدا نے ظاہر کیا ہے، ہم اُس کا وفاداری سے اقرار کیسے کریں؟

کبھی کلیسیا نے وفاداری سے اقرار کیا ہے۔ کبھی مسیحی بُری طرح ناکام بھی ہوئے ہیں۔ اِس لیے تاریخ خود کبھی ہمارا آخری اختیار نہیں بن سکتی۔

ہم بار بار نبیوں اور رسولوں کی کتابِ مقدّس کی طرف لوٹتے ہیں۔

اور وہاں ہم اُسی مسیح سے ملتے ہیں جس کا اقرار کلیسیا نے نقایاہ میں کیا، اور جس کا اعلان لوتھر اور لوتھرن اقرارِ ایمان کرتے ہیں: وہ حقیقی خُدا ہے جو ہمیشہ سے باپ سے مولود ہے، اور حقیقی انسان بھی ہے جو کنواری مریم سے پیدا ہوا — ہمارا خُداوند۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ محض وہ مسیح نہیں جس کا ہم مطالعہ کرتے ہیں۔
وہ ہمارے لیے مسیح ہے۔
وہ ہمارے لیے مصلوب ہوا۔
وہ ہمارے لیے جی اُٹھا۔
وہ ہمیں معاف کرتا ہے۔

اور اپنے کلام اور ساکرامنٹوں کے وسیلہ سے وہ اپنی کلیسیا کو مسلسل مضبوط اور محفوظ رکھتا ہے۔

پس جب ہم الٰہیاتی تعلیم میں مل کر کام کرتے ہیں تو کبھی یہ نہ بھولیں کہ ہم کتابِ مقدّس اور تاریخ کا مطالعہ کیوں کرتے ہیں۔

ہم کتابِ مقدّس کا مطالعہ اِس لیے کرتے ہیں کہ وہاں خُدا مسیح میں اپنے نجات بخش کام کو ظاہر کرتا ہے۔

ہم تاریخ کا مطالعہ اِس لیے کرتے ہیں کہ کلیسیا ہر دور میں اِس بات کے لیے بلائی جاتی ہے کہ وہ اُس مسیح کا وفاداری سے اقرار کرے۔

اور ہم اگلی نسل کو اِس لیے سکھاتے ہیں کہ یہی انجیل مسیح کی دوسری آمد تک سنائی جاتی رہے۔

کتابِ مقدّس مسیح کا وعدہ کرتی ہے۔
مسیح کتابِ مقدّس کو پورا کرتا ہے۔
کلیسیا مسیح کا اقرار کرتی ہے۔
اور ہم اُسی اقرار کو جاری رکھنے کے لیے بلائے گئے ہیں۔

خُدا ہمیں اپنے کلام کا وفادار اور اپنے بیٹے کے اقرار میں دلیر رکھے۔

آمین۔

دُعا: اَے خُداوند یسوع مسیح، تُو خُدا کے سب وعدوں کی تکمیل ہے، اور وہ نجات دہندہ ہے جس کی منادی نبیوں اور رسولوں نے کی۔ ہم تیرا شکر کرتے ہیں کہ تُو نے اپنے کلام کو محفوظ رکھا، اور اُن وفادار گواہوں کے لیے بھی جنہوں نے تیری کلیسیا کی ساری تاریخ میں تیرے نام کا اقرار کیا۔ ہمیں کتابِ مقدّس کا وفادار رکھ۔ ہمیں انسانی حکمت، بدلتی ہوئی رایوں اور اپنی ہی صلاحیتوں پر بھروسا کرنے سے بچائے رکھ۔ اُستادوں اور تیرے کلام کے خادموں کی حیثیت سے ہمیں فروتنی عطا کر۔ ہماری مدد کر کہ ہم تیری شریعت اور تیری انجیل کی صاف صاف منادی کریں، اور وفاداری سے تیرا اقرار کریں کہ تُو حقیقی خُدا اور حقیقی انسان، ہمارا مصلوب اور جی اُٹھا نجات دہندہ ہے۔ مسیح کو ہماری تعلیم، ہماری کلیسیاؤں اور ہماری زندگیوں کا مرکز بنائے رکھ، اُس دن تک جب ایمان دیدار میں بدل جائے گا اور ہم سب مل کر تیرے تخت کے سامنے تیرے نام کا اقرار کریں گے۔ تیرے پاک نام میں ہم یہ دُعا مانگتے ہیں۔ آمین۔

ریورنڈ ڈاکٹر اینگس کے۔ ایف۔ چیونگ ایشیا لوتھرن سیمنری (ALS) میں اکیڈمک ڈین اور تاریخی الٰہیات و علمِ تفسیر (ہرمینیوٹکس) کے پروفیسر کے طور پر خدمت انجام دیتے ہیں۔ وہ سی ای ایل سی کے عالمی الٰہیاتی تعلیمی کمیشن (GTEC) میں ایشیا کے نمائندے بھی ہیں۔ الٰہیاتی تعلیم کی ذمہ داریوں کے علاوہ وہ چین کے شہر گوانگ ژو میں ایک مقامی لوتھرن جماعت کے پادری بھی ہیں۔ ہانگ کانگ میں وہ ساؤتھ ایشیا لوتھرن ایونجیلیکل مشن (SALEM) کے رُکن ہیں، اور اِس وقت SALEM یاؤ اوئی جماعت کے ڈیکنز کے چیئرمین کے طور پر خدمت کر رہے ہیں۔

عینی شاہدین کی زبانی تاریخ: قدیم ماخذوں میں نقایاہ کی کونسل

حالیہ برسوں میں اِس بارے میں کئی دعوے سامنے آئے ہیں کہ 325ء میں نقایاہ کی کونسل میں اصل میں کیا ہوا تھا، اور کیا ہم اُس کی کارروائی کے بارے میں اندازوں سے بڑھ کر کچھ جان بھی سکتے ہیں۔ اِس مطالعے میں ڈاکٹر گلین ایل۔ تھامپسن اُن براہِ راست بیانات کا جائزہ لیتے ہیں جو کونسل میں موجود تین اشخاص — شہنشاہ قسطنطین، قیصریہ کے یوسیبیس اور اسکندریہ کے اتھناسیس — سے ہم تک پہنچے ہیں، اور دکھاتے ہیں کہ یہ ماخذ ہمیں کونسل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں کیا بتاتے ہیں۔ یہ مضمون اِس ماہ کے عبادتی پیغام کے ساتھ خوب مطابقت رکھتا ہے، جو نقایاہ کے اقرارِ ایمان پر غور کرتا ہے۔

مزید پڑھیں ›

ریورنڈ ڈاکٹر گلین ایل۔ تھامپسن کو لوساکا، زیمبیا میں تعینات کیا گیا جہاں اُنہوں نے چھ سال (1977–1983) خدمت کی۔ کولمبیا یونیورسٹی میں قدیم تاریخ کی تعلیم کے دوران اُنہوں نے نیویارک شہر میں WELS کی پہلی کلیسیا قائم کی۔ اُن کی دو محبتیں — مشن و بشارت اور علمی تحقیق — آگے بھی اُن کی خدمت کی راہنمائی کرتی رہیں: اُنہوں نے مشی گن لوتھرن سیمنری اور وِسکانسن لوتھرن کالج میں پڑھایا، اور اُس کام کی بنیاد رکھی جو آج WLS پیسٹورل اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کہلاتا ہے۔ 1999ء میں اُنہیں ہانگ کانگ میں SALEM کی طرف سے لیکچر دینے کی دعوت ملی، اور یوں تدریسی دوروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو بالآخر ایشیا لوتھرن سیمنری میں اکیڈمک ڈین اور نئے عہدنامے و کلیسیائی تاریخ کے پروفیسر کے طور پر کُل وقتی خدمت (2011–2020) پر منتج ہوا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ عالمی مشن اور WLS کے Grow in Grace پروگرام میں پڑھاتے ہیں، تحقیق و تصنیف کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اپنی ویب سائٹس www.fourthcentury.com اور www.PaulineRoads.com چلاتے ہیں۔ اُن کی بہت سی کتابیں Amazon پر اُن کے مصنف صفحے پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

وہ نبوّت کی تکمیل میں آیا

اِس مضمون میں ڈاکٹر جان سی۔ لارینز دکھاتے ہیں کہ پرانے عہدنامے کی نبوّتیں کس طرح یسوع مسیح میں پوری ہوئیں، اور کیوں پوری ہونے والی نبوّت رسولوں کی تعلیم میں ایمان کو مضبوط کرنے والی ایک قیمتی قوت بن گئی۔ اِمّاؤس کی راہ (لوقا 24) سے آغاز کرتے ہوئے وہ سمجھاتے ہیں کہ نبوّت اعلان بھی کرتی ہے اور آنے والی باتوں کی خبر بھی دیتی ہے، اور یہ کہ یسوع بطور «وہ نبی» باقی سب نبیوں سے اِس لیے مختلف ہے کہ اُس نے صرف منادی ہی نہیں کی بلکہ نبوّت کو پورا بھی کیا۔ یہ مضمون پہلی بار 1993ء میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کالج کے ایک سمپوزیم میں پیش کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں ›

ریورنڈ ڈاکٹر جان سی۔ لارینز (1943–2024) نے اپنی خدمت کا آغاز گینزول، فلوریڈا میں صیون لوتھرن چرچ کے پادری کی حیثیت سے کیا۔ بعد میں وہ مشی گن لوتھرن سیمنری اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر کالج کے صدر، اور وِسکانسن لوتھرن سیمنری میں پرانے عہدنامے کے پروفیسر رہے۔ برینڈائس یونیورسٹی سے اُنہوں نے غیر ملکی زبانوں میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں، اور اِس کے بعد بحیرۂ روم کے مطالعات میں پی ایچ ڈی کی۔ اُنہوں نے اپنی خدمت ہانگ کانگ میں ایشیا لوتھرن سیمنری کے بانی صدر کی حیثیت سے مکمل کی، جہاں وہ پڑھاتے بھی تھے۔ اُنہوں نے اسرائیل میں آثارِ قدیمہ کی کئی اہم کھدائیوں میں حصہ لیا، اپنے عبرانی اور پرانے عہدنامے کے طالب علموں کے ساتھ اسرائیل کے سفر کیے، مختلف عالمی مشن کے مقامات پر تحقیقی رخصت (سبیٹیکل) گزاری، اور سی ای ایل سی بھر میں ایک مقبول مقرر تھے۔ 22 ستمبر 2024ء کو خُداوند نے اُنہیں اپنے جلال میں بُلا لیا۔

اِس نیوز لیٹر کے بارے میں سوالات یا تبصروں کے لیے brad.wordell@wls.edu پر ای میل کریں۔

کتابِ مقدّس کے اقتباسات: کِتابِ مُقدّس، Revised Urdu Version © پاکستان بائبل سوسائٹی، 1970، 2010۔ عقیدۂ نقایاہ اور مسیح کے بارے میں اقرار کے الفاظ: «ڈاکٹر مارٹن لوتھر کی مختصر کیٹی کیزم» (اردو، نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن) سے ماخوذ۔