مضمون
افریقہ میں لوتھرن مسلک
خصوصاً وسطی افریقہ کی لوتھرن کلیسیا، زیمبیا سنڈ (LCCA-Z) کے حوالے سے
از ریو۔ انتھونی فِری
تعارف
افریقہ دنیا کا دوسرا بڑا براعظم ہے، جس میں 54 تسلیم شدہ خودمختار ریاستیں شامل ہیں۔ یہ جغرافیائی اور ثقافتی اعتبار سے نہایت متنوع ہے، اور اِس کی آبادی تقریباً ڈیڑھ ارب نفوس پر مشتمل ہے۔ اِس وقت زیریں صحارا افریقہ میں مسیحیت سب سے تیزی سے بڑھنے والا مذہب ہے، اور اِس کی رفتار اسلام سے بھی زیادہ ہے۔ یہ براعظم ایک جوان، پُرجوش اور پُرعزم مسیحی برادری کا گھر ہے، جو عالمی برادریِ ایمان میں بڑھتا ہوا قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے۔
افریقہ کے باشندے قدیم زمانے ہی سے خدا کو ہستیِ اعلیٰ مان کر اُس پر ایمان لاتے اور اُس کی پرستش کرتے آئے ہیں۔ اگرچہ مختلف قبیلوں اور ثقافتوں میں خدا کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، تاہم جو صفات اُس سے منسوب کی جاتی ہیں — قادرِ مطلق ہونا، حاضر و ناظر ہونا، اور علیمِ مطلق ہونا — وہ ہر جگہ ایک جیسی ہیں۔ یسوع مسیح کی خبر رسولوں ہی کے زمانے میں افریقہ تک پہنچ چکی تھی، جس کے ذرائع میں عیدِ پنتکست پر موجود افریقی زائرین اور اعمال کے آٹھویں باب کا ایتھوپیائی اہلکار شامل ہیں۔ تاہم زیریں صحارا افریقہ کے بیشتر حصوں میں مسیحیت بعد میں مغربی مشنریوں کی آمد اور انجیل کی منادی کے وسیلے سے پھیلی۔
افریقی لوتھرن مسلک کے لیے اصلاحِ کلیسیا کا پیغام انجیل کے ایک بنیادی پہلو کی نہایت اہم بازیافت ہے۔ Sola Fide — صرف ایمان — اور Solus Christus — صرف مسیح — یہ اقرار کرتے ہیں کہ نجات یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلے سے ملتی ہے (لوقا 7:48-50)۔ اِس پیغام کے مرکز میں یہ ہے کہ گنہگار خدا کی غیر مشروط محبت اور ناحق فضل سے راست ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ اصول کہ “نجات بکاؤ مال نہیں”، افریقی سیاق میں گہری گونج رکھتا ہے۔ لوتھرن تعلیمات اِسی مرکزی سچائی کو اُجاگر کرتی ہیں: انجیل اُس راستبازی کے بارے میں نہیں جس کا خدا تقاضا کرتا ہے، بلکہ اُس راستبازی کے بارے میں ہے جو خدا خود عطا کرتا ہے۔ ہم Sola Gratia — صرف فضل — سے نجات پاتے ہیں (افسیوں 2:8)۔
صرف فضل پر زور دیتے ہوئے لوتھرن الٰہیات یہ سکھاتی ہے کہ انسان کے کسی بھی ردِعمل سے پہلے خدا خود پہل کرتا ہے، اور وہی انجیل کے وسیلے سے انسان میں وہ ردِعمل پیدا بھی کرتا ہے۔ جلال صرف خدا ہی کا ہے — Soli Deo Gloria۔ خدا کا جلال ہی نجات کا مرکزی مقصد ہے۔ انسانی زندگی کی بہتری ایک مبارک نتیجہ ضرور ہے، مگر یہ اصل مقصد نہیں۔ خدا محض کسی مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں؛ وہ خود ذریعہ بھی ہے اور مقصد بھی۔
لوتھرن مسلک کا آغاز 1517ء میں ہوا، جب مارٹن لوتھر نے اپنے 95 مقالے شائع کیے — ایک ایسی تحریر جس میں رومن کیتھلک کلیسیا کی طرف سے معافی ناموں (indulgences) کی فروخت اور کلیسیائی اختیار کے ناجائز استعمال پر احتجاج کیا گیا تھا۔ اِسی سے پروٹسٹنٹ اصلاحِ کلیسیا کی تحریک شروع ہوئی۔ لوتھر کی تعلیمات کلمۂ اتفاق کی کتاب (Book of Concord) میں جمع کی گئیں، جو آج بھی دنیا بھر کی لوتھرن کلیسیاؤں کے لیے تعلیم اور اقرارِ ایمان کا معیار ہے۔
ہم وِٹن برگ، جرمنی کی 31 اکتوبر 1517ء سے سیدھے لوساکا، زیمبیا کے 1949ء تک آتے ہیں، کیونکہ اِس مضمون کا مقصد افریقہ بھر میں اِس سے پہلے کی لوتھرن کوششوں کا جائزہ لینا نہیں۔ اِس کے بجائے یہ افریقی مسیحیت کے وسیع تر سیاق میں زیمبیا کی وسطی افریقہ کی لوتھرن کلیسیا کی تاریخی نمو، عقائدی ڈھانچے، عبادتی طور طریقوں اور نمو کے رجحانات پر توجہ دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ کلیسیا کو قائم رکھنے میں مقامی قیادت اور تعلیم کے کردار کو بھی دیکھتا ہے، اور اکیسویں صدی میں لوتھرن مسلک کو درپیش مسائل پر بھی بات کرتا ہے۔
لوتھرن تعلیم کے مطابق گناہ سے نجات صرف خدا کے ناحق فضل (Sola Gratia) سے حاصل ہوتی ہے، صرف ایمان (Sola Fide) کے وسیلے سے پائی جاتی ہے، اور صرف کلامِ مقدّس (Sola Scriptura) سے پرکھی جاتی ہے۔ لوتھرن الٰہیات یہ بھی اقرار کرتی ہے کہ خدا نے ابتدا میں دنیا اور انسان کو کامل، مقدّس اور بے گناہ حالت میں پیدا کیا تھا۔
وسطی افریقہ کی لوتھرن کلیسیا (LCCA) لوتھرن روایت کے اندر ایک مسیحی فرقہ ہے۔ اِس کی خدمت کا مرکز زیمبیا اور ملاوی ہیں۔ LCCA-Z کی 115 جماعتیں ہیں۔ اندازہ ہے کہ عشائے ربانی میں شریک ارکان کی تعداد 8,885 ہے، اور LCCA-Z میں بپتسمہ یافتہ کل ارکان تقریباً 10,000 ہو سکتے ہیں۔ LCCA اِس پر زور دیتی ہے کہ نجات صرف فضل سے، صرف ایمان کے وسیلے سے ملتی ہے، اور بائبل مقدّس کو مسیحی زندگی اور تعلیم کے لیے حتمی اور بے خطا اختیار مانتی ہے۔
LCCA کا تاریخی پس منظر
زیمبیا میں لوتھرن مسلک کی تاریخی نمو اور موجودہ صورت میں وسطی افریقہ کی لوتھرن کلیسیا (LCCA) کی الٰہیاتی شناخت، ساخت اور مشن کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
وسطی افریقہ کی لوتھرن کلیسیا کی بنیاد وسکونسن اِوینجیلیکل لوتھرن سنڈ (WELS) کے لوتھرن مشنریوں نے رکھی۔ ابتدائی جائزے کا مشن کام 1949ء میں شروع ہوا، اور پہلے مستقل مشنری 1953ء میں برطانوی نوآبادی شمالی رہوڈیشیا پہنچے، جو بعد میں ملکِ زیمبیا بنا۔ 1955ء میں “رہوڈیشین لوتھرن چرچ کانفرنس” کے نام سے ایک باقاعدہ فرقہ منظم ہوا۔ 1962ء میں رہوڈیشین لوتھرن چرچ کانفرنس کو ازسرِ نو ترتیب دے کر وسطی افریقہ کی لوتھرن کلیسیا (LCCA) بنا دیا گیا۔
1962ء کے بعد LCCA نے ہمسایہ ملک ملاوی میں جائزے کا مشن کام شروع کیا، جس سے LCCA کی ملاوی کانفرنس قائم ہوئی۔ LCCA-Z کی جماعتیں زیمبیا کے کئی صوبوں میں موجود ہیں، اور کلیسیا زیمبیا کے اندر جماعتوں، پادریوں، مبشّروں اور عام ارکان میں سے چنے گئے رہنماؤں کے ذریعے اپنی خدمت جاری رکھے ہوئے ہے۔
WELS کے ساتھ اقراری رفاقت میں لوتھرن تعلیم افریقہ کے دیگر ممالک میں بھی پہنچائی گئی ہے، جن میں نائجیریا، کیمرون، ایتھوپیا، یوگنڈا، کینیا، تنزانیہ اور جمہوریہ کانگو (DRC) شامل ہیں۔ ون افریقہ ٹیم (OAT) کے ذریعے WELS افریقی کلیسیائی رہنماؤں کے ساتھ مل کر الٰہیاتی تعلیم اور اقراری لوتھرن بشارت کی حمایت کرتی ہے۔
لوتھرن مسلک کا عقائدی ڈھانچہ
ہماری کلیسیائیں یہ سکھاتی ہیں کہ لوگ اپنی طاقت، اپنی خوبیوں یا اپنے اعمال سے خدا کے حضور راست نہیں ٹھہر سکتے۔ لوگ مسیح کی خاطر، ایمان کے وسیلے سے، مفت راست ٹھہرائے جاتے ہیں، جب وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ خدا کی خوشنودی میں قبول کیے گئے ہیں اور اُن کے گناہ مسیح کی خاطر معاف ہو چکے ہیں۔ مسیح نے اپنی موت سے ہمارے گناہوں کا کفّارہ ادا کیا۔ خدا اِس ایمان کو اپنی نظر میں راستبازی شمار کرتا ہے۔
رومیوں 3 اور 4؛ آؤگسبرگ کا اقرارِ ایمان، مضمون IV
لوتھرن مسلک کا بنیادی اعتقاد یہ ہے کہ انسان صرف فضل سے، صرف ایمان کے وسیلے سے نجات پاتا ہے، اور یہ کہ کلامِ مقدّس ہی مسیحی تعلیم اور عمل کا اعلیٰ ترین اور بااختیار سرچشمہ ہے۔ لوتھرن مسلک کی عقائدی بنیاد “تین صرف” (Three Solas) میں خلاصہ کی جاتی ہے — لاطینی الفاظ جن کے معنی ہیں “صرف”:
- صرف فضل — Sola Gratia۔ نجات خدا کی ایک ایسی بخشش ہے جو کمائی نہیں جا سکتی۔ یہ انسانی کوشش، نیک اعمال، یا معافی ناموں جیسی مذہبی رسوم سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔
- صرف ایمان — Sola Fide۔ خدا کا فضل صرف یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلے سے ملتا ہے، نہ کہ ذاتی کارکردگی یا اخلاقی کامیابی سے۔ ایمان سے راست ٹھہرنا: لوتھرن یہ مانتے ہیں کہ انسان سراسر خدا کے فضل سے، یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلے سے نجات پاتا ہے، نہ کہ اپنے نیک اعمال یا خوبیوں سے۔
- صرف کلامِ مقدّس — Sola Scriptura۔ بائبل خدا کا الہامی اور بااختیار کلام ہے۔ یہی مسیحی تعلیم اور زندگی کا واحد اصول اور معیار ہے۔
اِن کے ساتھ لوتھرن مسلک یہ بھی اقرار کرتا ہے کہ یسوع مسیح ہی خدا اور انسان کے درمیان واحد ثالث ہے، اور نجات صرف اُسی میں ہے (صرف مسیح — Solus Christus)؛ اور چونکہ نجات سراسر خدا کا کام ہے، اِس لیے سب عزّت، ستائش اور جلال صرف اُسی کا حق ہے (صرف خدا کا جلال — Soli Deo Gloria)۔
دیگر بنیادی تعلیمات
- ساکرامنٹ (مقدّس رسوم)۔ وسطی افریقہ کے لوتھرن دو بنیادی ساکرامنٹ مانتے ہیں جو مسیح نے خود مقرر کیے: پاک بپتسمہ اور عشائے ربانی، جسے پاک شراکت بھی کہا جاتا ہے۔ بپتسمہ میں خدا گناہوں کی معافی اور مسیح میں نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ عشائے ربانی میں لوتھرن یہ اقرار کرتے ہیں کہ مسیح کا حقیقی بدن اور خون روٹی اور مے میں، اُن کے ساتھ اور اُن کے تحت حقیقتاً موجود ہیں — اِس تعلیم کو اکثر ساکرامنٹی اتحاد (sacramental union) کہا جاتا ہے (کلمۂ اتفاق، مفصّل بیان، مضمون VII، 1577ء)۔
- شریعت اور انجیل۔ لوتھرن تعبیر کا ایک مرکزی اصول شریعت اور انجیل کے درمیان امتیاز ہے۔ شریعت انسان کے گناہ کو، اور خدا کے معیار پر پورا اُترنے میں اُس کی بے بسی کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ انجیل مسیح کے وسیلے سے معافی اور نجات کا اعلان کرتی ہے (لوتھر کا بڑا سوال و جواب، 1529ء)۔
- بیک وقت راستباز اور گنہگار — Simul Justus et Peccator۔ لوتھرن یہ اقرار کرتے ہیں کہ ایماندار اپنی زمینی زندگی بھر بیک وقت “راستباز” بھی ہیں اور “گنہگار” بھی — مسیح کے کام کے سبب راست ٹھہرائے گئے، پھر بھی جلال پانے تک گناہ کی طرف مائل (آؤگسبرگ کا اقرارِ ایمان، مضمون II اور IV)۔
- تثلیثِ اقدس۔ وسطی افریقہ کے لوتھرن ایک ہی خدا پر ایمان کا اقرار کرتے ہیں، جو ازل سے تین اقانیم میں موجود ہے: باپ، بیٹا، اور روح القدس۔
عبادت اور عمل
لوتھرن مسلک پروٹسٹنٹ روایت کی اُن شاخوں میں سے ہے جو زیادہ روایتی اور عبادتی ترتیب (لِٹرجی) کی پابند ہیں۔ عبادتوں میں عموماً مقررہ دعائیں، کلامِ مقدّس کی تلاوتیں، گیت، اور عشائے ربانی کی باقاعدہ ادائیگی شامل ہوتی ہے، جس سے تاریخی مسیحی کلیسیا کے ساتھ تسلسل کا گہرا احساس قائم رہتا ہے۔
کلیسیا کی نمو اور بشارت
وسطی افریقہ کی کلیسیا میں لوتھرن مسلک کی تعمیر کا انحصار پائیدار پروگراموں پر، اور خاص کر تعلیم پر رہا ہے۔ پادریوں کی تربیت کا پروگرام قومی کلیسیا کی نمو، ترقی اور پختگی کا لازمی حصہ ہے۔ اِس پروگرام کا مقصد ایسے مقامی پادری تیار کرنا ہے جو خدا کے کلام کی درست منادی اور تعلیم دے سکیں۔ مقامی پادریوں کو قیادت کی صلاحیتوں کی تربیت بھی دی جاتی ہے، تاکہ وہ کلیسیا کے کام کا عمدہ انتظام کر سکیں۔ کلیسیا کی نمو کا دار و مدار ایسے تربیت یافتہ رہنماؤں کی دستیابی پر ہے جو انجیل کے پیغام کو مقامی سیاق میں پیش کر سکیں۔
وسطی افریقہ کی لوتھرن کلیسیا (LCCA) بیرونی امداد اور فنڈنگ میں جزوی کمی کے بعد محدود نمو کا سامنا کر رہی ہے۔ گزشتہ تین برس کے عرصے میں خدمت کے تمام شعبوں میں مجموعی نمو نمایاں طور پر سست ہوئی ہے۔
نمو کے اہم اعداد و شمار (تین سالہ اوسط):
- بالغوں کی حاضری: 3.22%
- بچوں کی حاضری: 4.22%
- بپتسمہ: 1.95%
- تصدیقِ ایمان: 1.74%
- پادریوں کی تربیت: 0.77%
اگرچہ LCCA کلیسیا عبادت میں شرکت، رکنیت کی رسوم، اور قیادت کی تیاری میں مثبت مگر محدود نمو دیکھ رہی ہے، پھر بھی یہ شرحیں کم ہیں۔ امداد اور فنڈنگ میں کمی نے پھیلاؤ کی رفتار پر — خاص کر پادریوں کی تربیت اور ساکرامنٹی خدمت پر — براہِ راست اثر ڈالا ہے۔ LCCA اِس نمو کو قائم رکھنے اور تیز کرنے کے لیے مقامی وسائل جمع کرنے کی کوششیں مضبوط کر رہی ہے۔
تعلیم و تربیت
لوساکا، زیمبیا میں وسطی افریقہ کی لوتھرن کلیسیا کا دینی مدرسہ اِس مقصد کے لیے قائم ہے کہ ایسے آدمیوں کو تیار کرے جو LCCA کی، یا اُس کی اقراری رفاقت میں شامل کلیسیاؤں کی پادری خدمت میں داخل ہونا اور اُس میں خدمت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ اُن لوگوں کے لیے مذہبی تعلیم کا ادارہ نہیں جو محض الٰہیات کے چند کورس کرنا چاہتے ہوں، یا ایسی کلیسیاؤں کی پادری خدمت میں جانا چاہتے ہوں جو ہماری LCCA رفاقت میں شامل نہیں (BOC Handbook، 2006)۔ اپنے قیام سے اب تک LCCA کے دینی مدرسے نے ساٹھ سے زائد پادری تربیت دیے ہیں، جن میں سے 37 اِس وقت خدمت میں سرگرم ہیں۔
دینی مدرسہ مختلف طریقوں سے اُن آدمیوں کو بھی الٰہیاتی اور پیشہ ورانہ ترقی کا موقع دینے کی کوشش کرتا ہے جو پہلے ہی اِس اقراری رفاقت کی پادری خدمت میں سرگرم ہیں۔ اِس مقصد کو پورا کرنے کے لیے لوتھرن دینی مدرسہ یہ چاہتا ہے کہ:
- پادریوں اور جماعتوں کی مدد کرے کہ وہ ایسے آدمی تلاش کریں اور تیار کریں جو بائبل انسٹی ٹیوٹ اور دینی مدرسے میں داخل ہوں۔
- طالبِ علموں اور اُن کے گھرانوں کی، اور ساتھ ہی LCCA میں پہلے سے خدمت کرنے والے پادریوں کی مدد کرے کہ اُن میں یہ باتیں بڑھیں:
- کلامِ مقدّس اور اپنے گرد و پیش کی دنیا کا علم؛
- اپنی صلاحیتوں پر اعتماد؛
- مسیحی ایمان؛
- مسیحی زندگی؛ اور
- خداوند کی خدمت کے لیے لگن۔
- ایک ایسی مسیحی برادری قائم کرے جو مل کر کام اور عبادت کرے۔
- وہ علمی اور عملی تربیت مہیا کرے جو ہماری LCCA جماعتوں اور LCCA سنڈ کی خدمت کے لیے ضروری ہے۔
- اسکول کا انتظام LCCA کی ہدایات کے مطابق چلائے (BOC Handbook، 2006)۔
پادریوں کی تربیت کے دیگر ادارے افریقہ کے دوسرے ممالک — ملاوی، نائجیریا، کیمرون، ایتھوپیا اور کینیا — میں بھی قائم کیے گئے ہیں۔ LCCA کے تربیت یافتہ پادری زیمبیا کے مختلف حصوں میں خدمت کرتے ہیں، اور یسوع مسیح کی انجیل کو اُس کی سچائی اور خالص پن میں پھیلانے میں مدد دیتے ہیں۔ لوتھرن تعلیمات بائبل مطالعوں، وعظوں اور تصدیقِ ایمان کی کلاسوں کے ذریعے بھی بانٹی، برقرار رکھی اور اُجاگر کی جاتی ہیں۔
مقامی قیادت کا نقطۂ نظر اور پائیدار نمو
افریقی، مقامی قیادت کے نقطۂ نظر سے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مقامی قیادت کا کردار، ثقافتی سیاق، اور نسل در نسل رہنمائی LCCA کی جماعتوں میں پائیدار اور خود انحصار نمو میں کیسے مدد دیتے ہیں۔
وسطی افریقہ کی لوتھرن کلیسیا (LCCA) اپنے قیام ہی سے ایک پختہ، مقامی کلیسیا کے بائبلی اور اقراری اصولوں پر چلتی آئی ہے۔ یہ تین بنیادی ستونوں میں ظاہر ہوتا ہے:
1۔ خود انحصاری — خود کفالت
LCCA مقامی وسائل جمع کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، اور ارکان سے کہتی ہے کہ خوشی سے ہدیے دیں۔ دسواں حصہ اور ہدیے پادری کے کام، جماعت کی خدمت، کلیسیا کے انتظام اور مقامی مشن کے کام کو سہارا دیتے ہیں۔ بعض جماعتیں آمدنی پیدا کرنے والے منصوبے بھی چلاتی ہیں — جیسے کاشتکاری، مرغبانی اور چھوٹے کاروبار — تاکہ پادریوں اور کلیسیائی پروگراموں کی مدد ہو۔ اِس کے ساتھ ساتھ سنڈ اور دینی مدرسہ خدمت کی بہت سی وسیع تر سرگرمیوں کے لیے اب بھی بیرونی مشن فنڈنگ پر انحصار کرتے ہیں۔
2۔ خود انتظامی — خود حکومتی
لوتھرن نظمِ کلیسیا کے مطابق LCCA قیادت اور تعلیم میں خودمختار ہے، اور اِس کی قیادت مقامی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ کلیسیا کا انتظام زیمبیائی پادری اور سنڈ کے اندر سے منتخب کیے گئے عام ارکان کے رہنما چلاتے ہیں۔ عقائدی دیانت کو برقرار رکھا جاتا ہے: ساری تعلیم اور عمل Sola Scriptura اور لوتھرن اقرارِ ایمان میں لنگر انداز ہیں۔ تادیب، تقرری، اور مشن کی حکمتِ عملی کے فیصلے سنڈ کے اجلاس میں کیے جاتے ہیں۔ LCCA اپنی ترجیحات خود مقرر کرتی ہے، اپنے ڈھانچوں کا انتظام خود کرتی ہے، اور مقامی حالات کے مطابق جواب دیتی ہے۔
3۔ خود پائیداری — خود اشاعت
LCCA کی توجہ جماعتوں کی خدمت اور اپنے ہی اندر سے رہنماؤں کی تربیت پر ہے۔ LCCA-Z کی جماعتیں موجودہ جماعتوں کی خدمت اور زیمبیا میں مقامی بشارت کے لیے مقامی رہنماؤں اور پادریوں سے کام لیتی ہیں۔ LCCA نے OAT کے ساتھ شراکت میں بنیادی سطح پر مقامی رہنماؤں کی تربیت بھی شروع کی ہے۔ یہی تربیت یافتہ رہنما آگے چل کر لوتھرن بائبل انسٹی ٹیوٹ اور دینی مدرسے کے لیے اُمیدوار بن سکتے ہیں۔
لوتھرن دینی مدرسہ اور پادریوں کی تربیت کے پروگرام مقامی خدامِ دین تیار کرتے ہیں، جس سے خدمت کا تسلسل یقینی بنتا ہے۔ کلیسیا اپنے ہی لوگوں اور وسائل کے ذریعے تعداد میں اور ادارہ جاتی اعتبار سے بڑھنے کے راستے تلاش کرتی رہتی ہے، اور ساتھ ہی اقراری رفاقت میں شامل شراکت داروں سے مدد بھی وصول کرتی ہے۔
اکیسویں صدی میں لوتھرن مسلک کو درپیش مسائل
لوتھرن مسلک کو جو مسائل درپیش ہیں وہ عقائدی، ثقافتی، ادارہ جاتی اور معاشی و سماجی نوعیت کے ہیں۔ جوں جوں لوتھرن تعلیم زیمبیا اور دیگر افریقی ممالک کے نئے مشن میدانوں میں پھیلتی ہے، اُسے ایسی غلط تعلیمات کا سامنا ہوتا ہے جو کلامِ مقدّس کی سچی تعلیم کے لیے خطرہ ہیں۔ اِن غلطیوں میں شریعت پرستی، کھلی عشائے ربانی کا عمل، اُن کلیسیاؤں کے ساتھ رفاقت جو تثلیث کو نہیں مانتیں، تعددِ ازواج، اور پنتکستی تحریک شامل ہیں۔
ماضی کے پھیلاؤ کے باوجود وسطی افریقہ کے خطے کی لوتھرن کلیسیائیں مسلسل بنیادی رکاوٹوں کا سامنا کرتی ہیں۔ اِن میں وسائل کی شدید کمی، پادریوں کی مالی مشکلات، اور یہ جاری بحث شامل ہے کہ کُل وقتی خدمت کی حمایت کی جائے، یا ایسے پادریوں سے کام لیا جائے جو ساتھ ساتھ کوئی دنیاوی پیشہ بھی رکھتے ہوں۔ LCCA-Z کو اِس وقت درپیش ایک اور اہم مسئلہ پادریوں کی تربیت کے نظام کی مالی معاونت ہے۔ جماعتیں اور رہنما تربیت کے ایسے طریقوں پر بات کرتے رہتے ہیں جو کم خرچ، سستے اور طویل مدت میں پائیدار ہوں — اور اُن آدمیوں کی مدد کے راستے بھی تلاش کیے جا رہے ہیں جو کُل وقتی رہائشی تربیت کے لیے اپنا گھر بار نہیں چھوڑ سکتے۔
خلاصہ
LCCA-Z اِس بات کی گواہی ہے کہ ایک افریقی لوتھرن کلیسیا کلامِ مقدّس اور اقرارِ ایمان کی وفادار رہتے ہوئے بھی خود انتظامی، خود کفالت اور خود اشاعت کی راہ پر چل سکتی ہے۔ مسائل حقیقی ہیں، مگر وہ کلیسیا کی پہچان نہیں۔ وہ کلیسیا کو گہری وفاداری، دانا مختاری، اور صرف فضل پر مسلسل بھروسے کی دعوت دیتے ہیں، جبکہ وہ زیمبیا کے لوگوں کی خدمت کرتی رہتی ہے۔
حوالہ جات
BOC Handbook (2006). Student Handbook. Lutheran Press.
Koehler, Edward W. A. (1952). A Summary of Christian Doctrine. St. Louis: Concordia Publishing House.
Luther, Martin (1529). Large Catechism.
The Book of Concord (1580). Augsburg Confession, Article IV.
The Lutheran Confessions (2006). A Reader’s Edition of the Book of Concord. St. Louis: Concordia Publishing House.
Walther, C. F. W. (1986). The Proper Distinction Between Law and Gospel. Trans. W. H. T. Dau. Rev. ed. St. Louis: Concordia Publishing House.
اُردو ترجمہ: WELS / ELS اقراری لوتھرن اصطلاحات کے مطابق۔ کلامِ مقدّس کے حوالے اُردو کتابِ مقدّس (URV، پاکستان بائبل سوسائٹی) کے مطابق دیے گئے ہیں۔

0 تبصرے